اسلام میں سود کا مفہوم
سود (ربا) کا لغوی معنی 'اضافہ' یا 'زیادتی' ہے۔ شرعی اصطلاح میں سود اس اضافی رقم کو کہتے ہیں جو قرض یا بیع میں بغیر کسی عوض کے وصول کی جائے۔ قرآن و سنت اور اجماع امت کے مطابق سود حرام ہے۔ یہ ایک بڑا گناہ ہے کیونکہ اس میں کمزوروں پر ظلم اور معیشت کی تباہی ہے۔
سود کی اقسام
سود کی دو بنیادی اقسام ہیں: قرض کا سود (ربا الدین/القرض) اور بیع کا سود (ربا البیع)۔ قرض کا سود وہ اضافہ ہے جو قرض کی مدت ختم ہونے پر طلب کیا جائے، مثلاً سود۔ بیع کا سود دو طرح کا ہوتا ہے: ربا الفضل (ایک ہی جنس کی چیز کا نابرابر تبادلہ) اور ربا النسیہ (التوا کے عوض اضافہ لیے جانے پر مبنی بیع)۔
وہ سود جس سے اسلامی ڈی فائی بچتا ہے
قسط جیسے اسلامی ڈی فائی پروٹوکول سود کی تمام اقسام سے پرہیز کرتے ہیں۔ قسط مرابحہ کے ماڈل پر کام کرتی ہے جس میں ایک مقررہ منافع پر بیع ہوتی ہے، نہ کہ سود۔ تمام لین دین حقیقی اثاثوں جیسے USDC میں ہوتے ہیں، نہ کہ قیاسی ڈیریویٹوز میں۔ کنٹریکٹس کو BaseScan پر آڈٹ کیا جاتا ہے تاکہ ربا اور غرر سے پاک ہوں۔
اسلامی معیشت میں سود کی حرمت کیوں؟
سود اس لیے حرام ہے کہ اس سے ناانصافی، استحصال اور اقتصادی تفاوت بڑھتا ہے۔ سورہ بقرہ (275-279) میں اللہ تعالیٰ سود خوروں کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہے۔ سود خیرات اور حقیقی محنت کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ اسلامی معیشت منافع کی تقسیم اور حقیقی تجارت کو فروغ دیتی ہے۔
قسط اسے کیسے نافذ کرتی ہے
قسط سود سے پاک نظام مرابحہ کے ذریعے نافذ کرتی ہے۔ خریدار اثاثہ حاصل کرنا چاہتا ہے، قسط اسے خرید کر 2% منافع کے ساتھ بیچ دیتی ہے (ایک بار منافع، نہ کہ سود)۔ اگر ادائیگی میں تاخیر ہو تو 3 دن کی مہلت دی جاتی ہے، بغیر کسی جرمانہ کے۔ اضافی رقم واپس کر دی جاتی ہے۔ تمام لین دین بیس بلاک چین پر شفاف ہیں۔
قسط دریافت کریں: qist.info
یہ مواد صرف معلوماتی ہے، مالی مشورہ نہیں۔